خواتین میں کورونا وائرس کے خلاف مدافعتی قوّت زیادہ ہے، برطانوی ماہرین

0
21

اسلام آباد – کورونا وائرس لوگوں کی صحت پر ہی نہیں بلکہ کئی اعتبار سے ہر فرد پر مختلف اثرات مرتب کر رہا ہے، مردوں اور عورتوں پر اس کے اثرات یکسر مختلف ہیں، کووڈ۔19 سے معاشرہ پر اقتصادی اور سماجی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، ایک وائرس جو بلاتفریق ہر طبقے کے افراد کو متاثر کر رہا ہے لیکن مردوں اور خواتین پر اس کے مختلف اثرات کیوں ہیں زندگی کے ہر شعبہ اور طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کووڈ۔
19 سے متاثر ہو کر شدید بیمار ہو رہے ہیں جس کے باعث کہا جا سکتا ہے کہ یہ وائرس انسانوں میں کوئی امتیاز نہیں کرتا کیونکہ کورونا وائرس ایک بے حس جینیاتی مادہ ہے اور یہ امتیاز کرنے کے قابل بھی نہیں ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس مختلف لوگوں کو مختلف لحاظ سے متاثر کر رہا ہے جبکہ صنفی اعتبار سے اس کے اثرات زیادہ مختلف انداز میں ظاہر ہو رہے ہیں۔

کووڈ۔19 سے مرد اور عورتیں نہ صرف مختلف انداز میں بیمار ہی نہیں ہو رہے بلکہ اس سے ان کی صحت اور معاشی خوشحالی پر بھی طویل المدت کے مختلف اثرات بھی مرتب ہو رہے ہیں، بیماری میں مبتلا خواتین اور مردوں کی شرح اموات میں بھی حیران کن فرق ہے۔ امریکہ میں کورونا کی بیماری سے مرنے والے مردوں کی تعداد عورتوں کے مقابلہ میں دگنا ہے۔ اسی طرح مغربی یورپ کے ملکوں میں بھی مردوں میں اموات کا تناسب 69 فیصد ہے جبکہ چین اور دیگر متاثرہ ممالک میں بھی اسی طرح کے اعداد و شمار سامنے آتے ہیں۔
برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر فلپ گولڈر نے کہا ہے کہ خواتین میں وائرس کے خلاف مدافعتی قوّت زیادہ ہے۔ خواتین میں ویکسین اور وباؤں سے بچاؤ کیلئے مدافعتی رد عمل مردوں کے مقابلہ میں عام طور پر زیادہ تیز اور زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ حقیقت ہے کہ خواتین کے خون میں ‘ایکس کروموسومز’ کی تعداد مردوں کے مقابلے میں دگنی ہوتی ہے۔
جب کورونا وائرس کی بات کی جائے تو یہ بہت اہم ہے۔ پروفیسر گولڈر نے مزید کہا ہے کہ جن پروٹینز یا لحمیات سے کورونا وائرس کا پتہ لگایا جا سکتا ہے وہ ایکس کروموسومز میں موجود ہوتے ہیں۔ خواتین کے خون میں پروٹین کی مقدار مردوں کے مقابلہ میں دگنا ہوتی ہے اس لئے خواتین میں مدافعتی قوّت مردوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ مزید برآں وائرس کے مختلف اثرات کی ایک وجہ ممکنہ طور پر مردوں اور عورتوں کے مختلف طرز زندگی بھی ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ مردوں اور عورتوں کی عادات مختلف ہوتی ہیں مثلاً سگریٹ نوشی کی وجہ سے صحت کے مسائل, دل اور پھیپھڑوں کی بیماریاں یا سرطان وغیرہ اس لئے ان عوامل کے باعث کورونا وائرس کے نتائج بھی مختلف ہو سکتے ہیں۔ جرمنی کی مین ہیم یونیورسٹی کے ماہر معاشیات مائیکل ٹرٹلٹ عالمی وبا کے خواتین اور مردوں پر معاشی اثرات کے حوالے سے کہتے ہیں کہ وبا کے باعث کیے جانے والے لاک ڈاؤن کے اقدامات کی وجہ سے کروڑں افراد بیروزگار ہو چکے ہیں جبکہ بہت سی عالمی معیشتوں کو بھی بحران کا سامنا ہے اور یہ عام معاشی بحران سے بالکل مختلف صورت حال ہے۔
کورونا کی وجہ سے پیدا ہونے والا یہ معاشی بحران عام حالات سے مختلف ہے کیونکہ عام طور خراب معاشی صورت حال میں مردوں میں بے روز گاری زیادہ ہوتی ہے کیونکہ زیادہ تر مرد فیکٹریوں، صنعتی، تجارتی اور تعمیراتی اداروں میں مزدوری اور ملازمت کرتے ہیں جن کا تعلق براہ راست معیشت سے ہوتا ہے۔ خواتین کا روزگار زیادہ تر تعلیم یا صحت عامہ سے وابستہ ہوتا ہے جن پر خراب معاشی حالات کا براہ راست اثر نہیں پڑتا تاہم اس مرتبہ دیگر عوامل بھی روزگار پر زیادہ اثر انداز ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ صحت عامہ، ٹرانسپورٹ، پولیس، زراعت، ماہی گیری، جنگلات اور مرمتوں اور نگہداشت کے شعبوں میں کام کرنے والے اہم یا کلیدی کارکنوں میں شمار ہوتے ہیں اور 17 فیصد خواتین جبکہ 24 فیصد مردوں کے روز گار کا انحصار ان کلیدی یا انتہائی اہم شعبوں پر ہے تاہم بعض شعبوں میں گھر سے کمپیوٹر کے ذریعے کا کیا جا سکتا ہے جبکہ بعض شعبہ جات میں ایسا ممکن نہیں۔
اس طرح کے شعبوں میں مردوں کے روزگار کی شرح 28 فیصد ہے جبکہ صرف 22 فیصد خواتین ملازم ہیں۔ برطانیہ کے انسٹی ٹیوٹ آف فسکل سٹڈیز کی تحقیق کے مطابق مہمان نوازی اور ریٹیل کے شعبے اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں یا بالکل بند پڑے ہیں اور ان میں خواتین کے کام کرنے کا تناسب مردوں کے مقابلہ میں 33 فیصد زائد ہے کیونکہ زیادہ تر خواتین سیاحت کی صنعت یا ریستوانز وغیرہ میں کام کرتی ہیں۔
تحقیق کے مطابق امریکہ میں مردوں کی اجرت کے مقابلہ میں عورتوں کی اجرتیں 15 فیصد کم ہوتی ہیں جبکہ آسٹریلیا میں مردوں کی اجرت کے 86 فیصد کے مساوی عورتوں کو ادا کیا جاتا ہے اور ایشیائی ممالک میں مردوں کے مقابلہ میں عورتوں کو 25 فیصد کم ادائیگی کی جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صنفی طور پر رنگ اور نسل کی بنیاد پر بھی تفریق پائی جاتی ہے اور نسلی اقلیتوں کی خواتین کا اس ضمن میں زیادہ استحصال کیا جاتا ہے۔
امریکہ میں سیاہ فام خواتین کی اجرتیں سفید فام خواتین کے مقابلے میں 21 فیصد کم ہوتی ہیں۔ کوویڈ۔19 ایک ایسی نئی وبا ہے جس نے معاشی عدم مساوات اور خاص طور صنفی بنیادوں پر معاشرتی تفریق کو اجاگر کیا ہے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ کورونا کی عالمی وبا کے دوران لاک ڈاؤن کی وجہ سے خواتین پر گھریلو تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ کورونا وائرس سب کو یکساں طور پر متاتر کر رہا ہے لیکن اس سے معاشرہ کے تمام طبقات مختلف انداز میں متاثر ہو رہے ہیں اور وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے معاشرتی ناہمواریاں بھی آشکار ہو رہی ہیں۔

سورس : اردو پوائنٹ